امریکا کی افغان پالیسی پر پاکستانی وزیرخارجہ کے تہران میں اہم مذاکرات

0

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے بھی اہم ملاقات کریں گے اور وزیر خارجہ ایرانی قیادت کو پاکستانی رہنماﺅں کا اہم پیغام پہنچائیں گے اور وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہونگے ۔۔۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ایک روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے، اپنے دورے کے دوران وہ ایرانی حکام سے امریکا کی نئی افغان پالیسی اور دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا، ایرانی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل اسلامی نے تہران ایئرپورٹ پہنچنے پر وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا استقبال کیا، وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ کے ہمراہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، اقوام متحدہ کیلئے ایڈیشنل سیکریٹری تسکین اسلم اور حکومت کے دیگر سینئر حکام بھی وفد میں شامل ہیں، ایران جانے والے حکومتی وفد کو وزارت خارجہ کے حکام نے نور خان ائیربیس راولپنڈی سے روانہ کیا، وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ایرانی صدر حسن روحانی سے اہم ملاقات کی ہے، اس موقع پر صدر حسن روحانی نے خطے کی مشکلات کو بیرونی مداخلت کے بغیر حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سمیت خطے کی مشکلات کا حل علاقائی ہے اور بیرونی طاقتیں ان معاملات کو کبھی حل ہوتے نہیں دیکھ سکتیں، صدر حسن روحانی نے کہا کہ خطے کے ممالک، خاص طور سے ایران اور پاکستان کو علاقے کے امن و استحکام کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے، ایرانی حکام سے دو طرفہ تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے پر بھی گفتگو ہوئی، واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 21 اگست کی نئی افغان پالیسی کے بعد گزشتہ ہفتے پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ختم نہیں ہوئے لیکن دونوں ملکوں کے روابط کو ملکی مفادات کی نظر سے دیکھا جائے گا جبکہ اب امریکا پر پاکستان کا انحصار کم ہوگیا ہے، اس کانفرنس کے اختتام پر افغانستان اور جنوبی ایشیاء کیلئے نئی امریکی پالیسی پر مشاورت کیلئے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے چین کا مختصر دورہ کیا تھا، بیجنگ میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے، خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست کو افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اُن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، نئی امریکی پالیسی میں افغانستان میں بھارت کو اہم کردار دینے کا اشارہ بھی کیا گیا تھا جو پاکستان کے ان خدشات میں اضافے کا سبب بنا تھا کہ بھارت اس موقع کو استعمال کرکے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مسائل پیدا کرے گا، اس حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کی جانب سے امریکی اور افغان فورسز پر ہونے والے مبینہ سرحد پار حملوں کو نہیں روکتا تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

Share.

About Author

Leave A Reply