اسرائیلی وزیراعظم و اہلیہ کو بدعنوانی کیس میں چارچ شیٹ کرنیکی تجویز

0

نیتن یاہو نے دو مختلف شخصیات سے 3 لاکھ ڈالر رشوت وصول کیےتاہم اسرائیلی وزیراعظم نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔

تل ابیب (میزان نیوز) اسرائیلی پولیس نے ملک کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، ان کی اہلیہ سارہ کے ساتھ ساتھ ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ شاؤل ایلویش اور ان کی اہلیہ ایرس کے نام رشوت اور بدعنوانی سے متعلق کیس کی چارج شیٹ میں شامل کرنے کی تجویز دے دی، اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق یہ تیسرا کیس ہے جس میں پولیس اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف بد عنوانی کی تحقیقات کررہی ہے، خیال رہے اسرائیلی وزیراعظم کو چارج شیٹ میں شامل کرنے کے حوالے سے پولیس کا بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب 3 سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد پولیس کمشنر رونی الشیچ مستعفی ہوگئے تھے، مذکورہ بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو پر مبینہ طور پر شاؤل ایلویش سے تعاون کرنے اور ذاتی مفاد کیلئے رشوت لینے کا الزام ہے، یاد رہے کہ شاؤل ایلوش، اسرائیل کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیشن فرم بیزک اور نیوز ویب سائٹ کے سربراہ ہیں، جو ملک کی سب سے بڑی 2 ویب سائٹس میں سے ایک شمار ہوتی ہے، ادھر ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق تفیش کاروں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس قدر ثبوت موجود ہیں، جس سے نیتن یاہو کو ٹرائل کیلئے چارج شیٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے، مذکورہ کیس رشوت، فراڈ، بد اعتمادی اور غلط طریقے سے فائدے حاصل کرنے سے متعلق ہے، 5 اکتوبر 2018 کو اسرائیلی پولیس نے ملک کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے بدعنوانی کے الزامات کے تحت 12 وں مرتبہ تفتیش کی تھی، فروری کو اسرائیلی پولیس نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف رشوت اور بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے کی تجویز پیش کی تھی، رواں سال اگست میں بھی نیتن یاہو سے اسرائیلی ٹیلی کام میں بد عنوانی میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش کی گئی تھی، واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم متعدد مرتبہ ان پر لگائے جانے والے بد عنوانی کے الزامات کو مسترد کرچکے ہیں، اس سے قبل 14 فروری 2018ء کو اسرائیلی پولیس نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف رشوت اور بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے کی تجویز پیش کی تھی، پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے دو مختلف شخصیات سے 3 لاکھ ڈالر رشوت وصول کیے تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اس موقع پر بھی الزامات کو قطعی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے، جولائی 2016ء میں اسرائیل کے اٹارنی جنرل ایوچائی منڈل بلٹ نے کہا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے منسوب ایک اہم معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، تاہم اس موقع پر مذکورہ معاملے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھی جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے کسی بھی قسم کے غیر قانونی معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کی جاتی رہی، یاد رہے کہ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے فرانس کے بزنس ٹائیکون ارنود ممران سے رقم وصول کی تھی جن کو 283 ملین یورو کے ایک اسکینڈل میں 8 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

Share.

About Author

Leave A Reply