آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی اورکم عاشق رسولؐ نہیں ہیں

0

چیف جسٹس مطابق ریاست اپنی ذمہ داری کو دیکھے انصاف کرنا عدالتوں کا کام ہے رسولؐ اکرم کی توہین کسی کیلئے قابل برداشت نہیں آسیہ بی بی کیس میں ناموس رسالتؐ کا کیس نہ بنتا ہو تو سزا کیسے دیں ۔۔۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولؐ نہیں اور ناموس رسالتؐ پر ہم شہید ہونے کیلئے بھی تیار ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جس بینچ نے آسیہ بی بی کا فیصلہ دیا وہ کسی سے کم عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں، لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کی، اٹارنی جنرل خالد جاوید کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں امن و عامہ کی صورتحال بہتر نہیں، ایسی صورت حال میں عدالت عظمیٰ وفاقی حکومت کونئے آئی جی اسلام آباد کی تقرری کی اجازت دے، سپریم کورٹ نے نئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) اسلام آباد کی تقرری سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی مستقل آئی جی کی تقرری کی اجازت کیسے دے دیں، آپ نئے آئی جی کے بجائے کسی سینئر افسر کو آئی جی کا اضافی چارج دے دیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاست اپنی ذمہ داری کو دیکھے، انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ہے، رسولؐ اکرم کی توہین کسی کیلئے قابل برداشت نہیں جب کہ آسیہ بی بی کے کیس میں ناموس رسالتؐ کا کیس نہ بنتا ہو تو سزا کیسے دیں، لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیئے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولؐ نہیں اور کئی ججز بینچ میں بیٹھے درود شریف پڑھتے رہتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اپنے فیصلے کا آغاز کلمے سے کیا، ہم کسی سے کم عاشق رسولؐ نہیں اور نبی پاکؐ کی حرمت پر جان بھی قربان کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰؐ کے بغیر مسلمانوں کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی اور ناموس رسالتؐ پر ہم شہید ہونے کیلئے بھی تیار ہیں، واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے چند روز قبل آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا تھا جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تبادلہ روک دیا تھا

Share.

About Author

Leave A Reply